28 March 2026

بدلتے موسم اور اوورسیز پاکستانیوں کا کردار

وسیم عباس

دنیا کے موسم تیزی سے بدل رہے ہیں۔ کبھی جھلسا دینے والی گرمی اور خشک سالی، تو کبھی غیر معمولی بارشیں اور تباہ کن سیلاب۔ یہ سب کچھ صرف قدرتی تبدیلیاں نہیں بلکہ براہِ راست انسانی زندگی اور معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ قدرتی آفات اب پہلے سے زیادہ شدید اور غیر متوقع ہو چکی ہیں، اور ہر ملک کے لیے یہ ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ 2022 کے سیلاب کے لگائے گھاؤ ابھی بھرے نہ تھے کہ حالیہ برسوں میں آنے والے سیلاب نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں اجاڑ دیں۔ کھیت تباہ ہوئے، فصلیں برباد ہوئیں اور بنیادی ڈھانچے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ ایسے حالات میں صرف متاثرہ خاندان ہی نہیں بلکہ پوری کمیونٹی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔ بحالی ایک ایسا عمل ہے جو وقت، محنت اور سب سے بڑھ کر مسلسل وسائل کا متقاضی ہوتا ہے۔ ایسے نازک مواقع پر اوورسیز پاکستانیوں کا کردار نمایاں ہو جاتا ہے۔ بیرون ملک مقیم ہمارے ہم وطن نہ صرف مالی وسائل رکھتے ہیں بلکہ جدید مہارت اور تجربہ بھی ساتھ لاتے ہیں۔ اگر یہ وسائل اور صلاحیتیں درست سمت میں بروئے کار آئیں تو تعلیم، صحت، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کے میدان میں متاثرہ علاقوں کے لیے امید کی نئی کرن بن سکتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوششیں واقعی منظم اور عملی ہیں یا صرف بیانات اور فوٹو سیشن تک محدود رہ جاتی ہیں؟
منڈی بہاوالدین اور گجرات کے اضلاع کی مثال لیجیے، جہاں دو سو سے زائد فلاحی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔ یہ تنظیمیں صحت، صفائی اور تعلیم کے شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ خاص طور پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں یہ تنظیمیں نہ صرف عارضی امداد پہنچا سکتی ہیں بلکہ طویل المدتی منصوبوں کے ذریعے پائیدار تبدیلی بھی لا سکتی ہیں۔ تعلیمی اداروں کی بحالی، روزگار کے مواقع اور صحت کی سہولیات جیسے اقدامات انہی کوششوں کا حصہ ہیں۔ تاہم ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ کچھ تنظیمیں، خاص طور پر یورپ اور برطانیہ میں رجسٹرڈ، صرف سوشل میڈیا پر بیانات اور چند نمائشی سرگرمیوں تک محدود ہیں۔ ان کا پاکستان میں عملی اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے برعکس ہیلپنگ ہینڈز اور الخیر ٹرسٹ جیسی تنظیموں نے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ اگر نیت صاف اور حکمتِ عملی منظم ہو تو حقیقی تبدیلی ممکن ہے۔ منڈی بہاوالدین کے علاقے موجیانوالہ میں ان اداروں نے تعلیم، روزگار اور معاشرتی فلاح کے کئی منصوبے کامیابی سے مکمل کیے ہیں، جو دوسروں کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔ ہیلپنگ ہینڈز اور الخیر ٹرسٹ موجیانوالہ کی کامیابیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ خدمت صرف دکھاوے یا تشہیر کا نام نہیں۔ یہ ایک مسلسل محنت، کمیونٹی کے ساتھ قریبی رابطے اور عملی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتی ہے۔ اوورسیز پاکستانی اگر اس سوچ کو اپنائیں تو نہ صرف فوری ریلیف ممکن ہے بلکہ مستقبل کی مضبوط آبادکاری بھی یقینی بنائی جا سکتی ہے