8 February 2026

خوش مزاج افسران یا آدم بیزار؟

میری بات/روہیل اکبر
وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف چکوال جلسہ میں فرما رہی تھی کہ آج سے چند سال پہلے ملک ڈیفالٹ کی صدائین بلند ہو رہی تھی لیکن ہم نے اللہ تعالی کے فضل سے ملک کو مشکل صورتحال سے نکال دیا اور آج ہر طرف خوشحالی ہے جو آپ لوگوں کے ٹیکسوں سے اکھٹے ہونے والے پیسوں کی وجہ سے ہے۔وزیراعلی صاحبہ نے بلکل درست کہا اور واقعی عوام ٹیکس دیتے ہیں تاکہ ملک ترقی کرے اور غریب عوام خوشحال ہو انہی ٹیکس کے پیسوں سے ہمارے سرکاری ادارے اور ان میں بیٹھے ہوئے افسران پرورش پارہے ہیں ہمارے سرکاری ادارے عوامی خدمت کے لیے قائم کیے گئے تھے تاکہ شہریوں کے مسائل کا فوری اور منصفانہ حل نکالا جا سکے مگر افسوس کہ ان اداروں میں کچھ ایسے افسران بھی موجود ہیں جو عوام اور اپنے ماتحت عملے سے ملنے جلنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں ان کی سخت مزاجی اور آدم بیزار رویہ نہ صرف عوام کو متنفر کرتا ہے بلکہ دفتری ماحول کو بھی زہر آلود کربنا رہاہے ایسے افسران کے رویے سے نفرت اور تعصب کو فروغ ملتا ہے ماتحت عملہ خوف اور بداعتمادی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور لوگ اپنی رائے پیش کرنے یا اصلاحی تجاویز دینے سے کتراتے ہیں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ میرٹ دب جاتا ہے اور تعلق داری، خوشامد اور چغل خوری کا کلچر پنپنے لگتا ہے بعض دفاتر میں چغل خور ملازمین کو خاص اہمیت دی جاتی ہے جو افسران کے کان بھرنے کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں یہ عمل نہ صرف ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ کارکردگی کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے اس رویے کے اثرات صرف دفاتر تک محدود نہیں رہتے بلکہ عوامی سطح پر بھی ظاہر ہوتے ہیں جب کوئی شہری کسی سرکاری دفتر میں اپنے مسئلے کے حل کے لیے جاتا ہے تو اسے خوش اخلاقی اور سہولت کی بجائے تحقیر اور بے نیازی کا سامنا کرنا پڑتا ہے نتیجتاً عوام اور اداروں کے درمیان خلیج بڑھتی جاتی ہے اور سرکاری مشینری پر اعتماد ختم ہونے لگتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سرکاری افسران اور ملازمین کے لیے باقاعدہ اخلاقی اور پیشہ ورانہ تربیت کا اہتمام کرے ایسے افسران جو نفرت اور تعصب کو ہوا دیتے ہیں ان کا احتساب کیا جائے دفاتر میں کارکردگی کا جائزہ صرف فائلوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ عوامی شکایات اور ماتحت عملے کی رائے کی روشنی میں بھی لیا جانا چاہیے اگر ہم چاہتے ہیں کہ سرکاری ادارے واقعی عوامی خدمت کے مراکز بنیں تو ہمیں آدم بیزار اور چغل خور کلچر کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا بصورت دیگر نفرت، بداعتمادی اور بدعنوانی کا یہ زہر ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتا رہے گا
آج اگر چند اداروں پر لوگوں کا اعتماد ہے تو وہ ان افسران کی وجہ سے ہے جنہوں نے اپنی حب الوطنی اور عوام دوستی کی وجہ سے ہر کسی کو گلے لگایا اپنے محکمہ یا باہر کے لوگوں سے ملنے کے لیے دفتر کے دروازے پر ٹائم ٹیبل نہیں لگایا اور نہ ہی دربان کو منع کیا کہ کسی کو اندر نہیں آنے دینا ایسے افسران نہ صرف پنجاب حکومت کی نیک نامی میں اضافہ کررہے ہیں بلکہ ادارے کا وقار بھی بلند کرنے میں مصروف ہیں ایسے افراد اب انگلیوں پر گنے اور نظروں میں تولے جاسکتے ہیں حکومت کو چاہیے کہ ایسے افراد کو باقی افسران کی تربیت کی ذمہ داری بھی دیں جوا یماندری میں بھی بے مثال ہیں اس حوالہ سے چند اصلاحی تجاویزہیں اگر حکومت اس پر عمل کرلے تو عوام کا کھویا ہوا اعتماد بحال ہوسکتا ہے سب سے پہلے سرکاری افسران اور ملازمین کے لیے اخلاقی و پیشہ ورانہ تربیتی ورکشاپس منعقد کی جائیں تاکہ وہ عوام سے خوش اخلاقی اور ذمہ داری کے ساتھ پیش آئیں، احتسابی نظام کے زریعے ایسے افسران جو تعصب اور چغل خوری کو فروغ دیتے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، شکایتی میکانزم کوعوام اور ماتحت عملے کے لیے شفاف شکایتی نظام بنایا جائے جس کے ذریعے وہ افسران کے رویوں پر رپورٹ کر سکیں،ہر ماہ کارکردگی کا جائزہ  لیا جائے اور خوش مزاج افسر کی تصویر دفتروں میں آویزاں کی جائے اسکے ساتھ ساتھ پروموشن اور انعامات کا معیار صرف فائلوں تک محدود نہ ہو بلکہ عوامی اطمینان اور ادارے کے ماحول کو بھی بنیاد بنایا جائے، چاپلوسی کلچر کا خاتمہ کرکے دفاتر میں صرف میرٹ اور کام کی بنیاد پر اہمیت دی جائے نہ کہ خوشامد اور تعلق داری کی بنیاد پر، مثالی افسران کی حوصلہ افزائی بہت ضروری ہے ایسے افسران جو دوستانہ اور مثبت ماحول قائم کرتے ہیں ان کی تعریف اور پذیرائی کی جائے تاکہ دوسروں کے لیے مثال بن سکیں اسکے ساتھ ساتھ سرکاری محکموں میں جب کوئی افسر تبدیل ہوتا ہے تو عام طور پر یہ خبر ایک نوٹیفکیشن کی صورت میں دفتر کی دیواروں تک محدود رہتی ہے اکثر جاتے ہوئے افسر کو احساس تک نہیں ہوتا کہ اس نے برسوں کی محنت کے باوجود کوئی رشتہ جوڑا یا کوئی یاد چھوڑی لیکن پنجاب کے سیکریٹری اطلاعات و ثقافت طاہر رضا ہمدانی نے اس سوچ کو بدل کر ایک نئی اور حسین روایت قائم کر دی ہے
پنجاب میں اس وقت عوام اور حکومت کے درمیان خوشگوار شتہ قائم کرنے میں جو افسران دن رات ایک کیے ہوئے ہیں ان میں میاں فاروق نذیر،بابر امان بابر،راجہ جہانگیر انور،راجہ منصور،عثمان انور،شاہد لالی،شہنشاہ فیصل عظیم،رائے منظور ناصر،ڈاکٹر عبدالقیوم اور محسن رفیق سمیت چند اور نام شامل ہیں جن کی وجہ سے اداروں کا وقار بحال ہے لیکن سیکریٹری انفارمیشن اینڈ کلچر پنجاب طاہر رضا ہمدانی کی شخصیت کا جادو سب سے وکھرا ہے انکے اندر عاجزی، شرافت اور احترامِ آدمیت کا حسین امتزاج ہے وہ نہ صرف ایک بہترین افسر ہیں بلکہ دوسروں کے دل جیتنے کا ہنر رکھنے والے ایک ایسے انسان بھی ہیں جو تعلقات کو محض فائلوں اور دفتری احکامات تک محدود نہیں رکھتے بلکہ انہیں یادگار بنانے کا سلیقہ بھی جانتے ہیں پچھلے ماہ جب انہیں ڈی جی پی آر کا چارج ملا تو انہوں نے غلام صغیر شاہد کو عزتو احترام کے ساتھ رخصت کیاانکے اعزاز میں تقریب رکھی اسی طرح پنجاب انسٹی ٹیوٹ لینگویج آرٹ اینڈ کلچر(پلاک) کی باوقار اور خوش مزاج ڈائریکٹر جنرل محترمہ بینش فاطمہ کو جس والہانہ انداز میں خدا حافظ کہا وہ بھی ایک مثال ہے بینش فاطمہ کا شمار بھی انہی افسران میں ہوتا ہے جو ادارے کے ساتھ عوام کا تعلق مضبوط بنانے کے لیے جدوجہد مصروف رہتے ہیں بینش فاطمہ کی نرم خوئی، خوش اخلاقی اور مثبت رویہ انہیں ہمیشہ دوسروں کے دلوں میں زندہ رکھے گا ہمدانی صاحب کی سربراہی میں پلاک والوں نے جس محبت اور خلوص سے انہیں خدا حافظ کہا وہ محض ایک تقریب نہیں تھی بلکہ ایک احساس تھا کہ محنت اور خدمت کبھی ضائع نہیں جاتی
طاہر رضا ہمدانی نے عزت بخشنے والا جو کلچرپنجاب میں پروان چڑھایا ہے یہ باقی اداروں کے لیے بھی ایک مثال ہے جس سے سرکاری محکموں میں مثبت روایت بھی پروان چڑھتی ہیں کاش! ہر محکمہ اپنے افسران کو اسی طرح رخصت کرے تو یہ لمحات خوشبو کی طرح بکھر جائیں گے اور وقت گزرنے کے ساتھ یہی لمحے سنہری یادوں میں ڈھلتے جائیں گے لیکن اسکے لیے ضروری ہے کہ ہر محکمے میں ایک ہمدانی جیسا شخص ہو جو اپنے محکمہ میں موجود ہر کسی کو عزت دینا جانتا ہو اور جانے والوں کی رخصتی کو بھی یاد گار بنا کر انہیں وہ عزت و احترام دے کہ تاعمر یادگار لمحے بن جائیں شاید سرکاری دفاتر کے در و دیوار بھی محبت اور اپنائیت کی گواہی دینے لگیں۔)