تحریر؛امتیازعلی شاکر
آج کے جدید دورمیں موبائل فون کا استعمال روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ کاروبار، تعلیم، طب، صنعت، زراعت اور گھریلو معاملات سمیت ہرطرح کے رابطوں کیلئے سب کا دارومدار اب موبائل نیٹ ورک پر ہے۔ بدقسمتی سے جتنی تیزی سے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، اتنی ہی شدت کے ساتھ صارفین کو موبائل نیٹ ورک کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اور غیر ضروری اشتہاری مہمات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف عوام کیلئے اذیت ناک ہے بلکہ قومی ترقی کی رفتار کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
سب سے پہلے بات کرتے ہیں موبائل نیٹ ورک کمپنیوں کے اشتہارات، آفرز اور پروموشنل ایس ایم ایس کی۔ آج پاکستان میں کوئی بھی موبائل فون صارف ایسا نہیں جسے روزانہ درجنوں غیر ضروری پیغامات اور کالز موصول نہ ہوتی ہوں۔رات،دن موبائل فون نیٹ ورک کمپنیوں کی بدمعاشی جاری رہتی ہے۔کبھی قرض لینے کی اسکیم، کبھی کالر ٹون لگانے کی ترغیب، کبھی میڈیکل انشورنس، کبھی موبائل بینکنگ کی بے شمار آفرز۔ یہ سب اتنے تسلسل سے ہوتا ہے کہ صارفین کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ تصور کیجئے ایک شخص گاڑی چلا رہا ہے، دوسرا کسی انٹرویو کے لیے جا رہا ہے، تیسرا ہسپتال میں مریض کے لیے خون یا دوائی کی تلاش میں ہے، اور ایسے میں اچانک ایک کال آتی ہے جو محض قرض اسکیم یا کالر ٹون لگانے کی پیشکش پر مشتمل ہو۔ یہ رویہ نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ عوامی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے۔
موبائل نیٹ ورک کمپنیوں کا اصل کام صارفین کو بہترین اور معیاری سروس مہیا کرنا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جب صارفین خود اپنی ضرورت کے تحت کال کرتے ہیں تو نیٹ ورک اس قدر کمزور ہوتا ہے کہ آواز کٹ کٹ جاتی ہے۔ کبھی دوسری جانب آواز سنائی نہیں دیتی، کبھی ہیلو ہیلو کی گردان سنائی دیتی ہے۔ ایک پیغام پہنچانے کے لیے کال چار پانچ بار کرنی پڑتی ہے۔ اس سے نہ صرف وقت کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ صارفین کو مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا صارفین نے موبائل سمز اس لیے خریدی ہیں کہ کمپنیاں اپنی مصنوعات اور خدمات کی تشہیر کریں یا اس لیے کہ وہ بوقت ضرورت آسانی سے رابطہ قائم کر سکیں؟ جواب بالکل واضح ہے۔ عوام نے نیٹ ورک پر اعتماد اس لیے کیا کہ یہ ان کے رابطوں کو آسان اور تیز بنا سکے۔
پاکستان کے آئین اور قوانین میں صارفین کے حقوق کی مکمل ضمانت دی گئی ہے۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کا بنیادی فرض ہے کہ وہ صارفین کے حقوق کا تحفظ کرے اور موبائل نیٹ ورک کمپنیوں کو سختی سے پابند بنائے کہ وہ غیر ضروری کالز اور پیغامات سے اجتناب کریں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کوئی کمپنی صارف کو بغیر اجازت اشتہاری کال یا ایس ایم ایس کرے تو اس پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ایسا کوئی موثر نظام نظر نہیں آتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ کمپنیاں منافع کے لالچ میں عوام کو مسلسل پریشان کر رہی ہیں اور جوابدہی سے آزاد ہیں۔
مزید یہ کہ موبائل نیٹ ورک کی ناقص کارکردگی صرف شہریوں کے ذاتی معاملات تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات قومی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ کاروباری افراد جب اپنے کلائنٹس سے رابطہ کرتے ہیں اور کال ڈراپ یا نیٹ ورک فیل ہو جاتا ہے تو ان کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ طلبہ جب آن لائن کلاس یا ریسرچ کے دوران نیٹ ورک کی کمی کا شکار ہوتے ہیں تو ان کی تعلیم میں رکاوٹ آتی ہے۔ ایک ڈاکٹر یا ریسکیو اہلکار جب کسی ہنگامی صورتحال میں بروقت رابطہ قائم نہیں کر پاتا تو اس کے نتیجے میں انسانی جان تک ضائع ہو سکتی ہے۔ یہ محض صارفین کی شکایت نہیں بلکہ ایک قومی المیہ ہے۔ایک اور بڑا مسئلہ موبائل بینکنگ ایپس اور قرض اسکیموں کا ہے۔ کمپنیاں مختلف ناموں سے صارفین کو بظاہر آسان قرض فراہم کرنے کی ترغیب دیتی ہیں، حقیقت میں یہ معمولی رقم پر بھاری سود کے جال میں پھنسانے کا ہتھکنڈہ ہے۔ عام لوگ جو معاشی دباؤ میں پہلے ہی پسے ہوئے ہیں، ان اشتہارات اور آفرز کے جال میں آ کر مزید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ان تمام مسائل کے حل کیلئے حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری اور سخت اقدامات کرنے چاہیے۔ سب سے پہلے تو ایک ایسا قانون نافذ ہونا چاہیے جس کے تحت کسی بھی کمپنی کو صارف کی مرضی کے بغیر پروموشنل ایس ایم ایس یا کال کرنے کی اجازت نہ ہو۔ کوئی کمپنی اس قانون کی خلاف ورزی کرے تو اس پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے اور بار بار خلاف ورزی کرنے پر ان کے لائسنس تک معطل کیے جائیں۔
دوسرا، نیٹ ورک کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے واضح ہدایات جاری کی جائیں۔ کمپنیاں اربوں روپے منافع کما رہی ہیں پر صارفین کو بنیادی سہولت تک نہیں دے رہیں۔ یہ صورتحال ناقابل برداشت ہے۔ پی ٹی اے کو چاہیے کہ وہ ہر کمپنی کی کارکردگی پر سہ ماہی رپورٹ تیار کرے اور عوام کے سامنے پیش کرے۔ جو کمپنیاں معیار پر پوری نہ اتریں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔تیسرا، عوام میں بھی اپنے حقوق کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ضروری ہے۔ صارفین کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ پی ٹی اے میں شکایت درج کر سکتے ہیں۔ انہیں غیر ضروری کالز یا پیغامات موصول ہوں تو وہ ان نمبروں کو بلاک کر کے رپورٹ کریں۔ اسی طرح کال ڈراپ یا نیٹ ورک فیل ہونے کی صورت میں بھی باقاعدہ شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔ عوام اجتماعی طور پر آواز بلند کریں تو کمپنیاں بھی مجبور ہوں گی کہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں۔