8 April 2026

ورلڈ کپ جذبات سے نہیں منصوبہ بندی سے جیتے جاتے ہیں

تحریر، وسیم عباس

میں یہ تحریر پاکستان کی جیت سے شروع کرنا چاہتا ہوں، مگر سچ یہ ہے کہ دل اس جیت پر زیادی خوش نہیں ہے۔ نیدرلینڈز کے خلاف دو پوائنٹس ضرور مل گئے، مگر جو کچھ میدان میں نظر آیا، اس نے اطمینان کے بجائے تشویش کو جنم دیا۔ شاید مسئلہ یہ ہے کہ ہم اب جیت کو ہی سب کچھ سمجھنے لگے ہیں، جبکہ ٹی 20 ورلڈ کپ جیسے مختصر اور بے رحم فارمیٹ میں صرف جیت کافی نہیں بلکہ جیت کا انداز بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔

اس ورلڈ کپ میں پاکستان ایک اضافی دباؤ کے ساتھ میدان میں اترا ہے اور وی دباو ہے بھارت کے خلاف میچ نا کھیلنا۔ یعنی پاکستان ورلڈ کپ شروع ہونے سے پہلے ہی دو پاونٹس کی کمی کا شکار ہے۔ ایسے میں حساب کتاب بہت واضح ہے یعنی پاکستان کو چھوٹی، ایسوسی ایٹ یا نسبتاً کمزور ٹیموں کے خلاف بڑے مارجن سے جیتنا ہو گا تاکہ نیٹ رن ریٹ محفوظ رہے۔ مگر جو کچھ ہم نے پہلے میچ میں دیکھا، وہ اس سوچ کے بالکل برعکس تھا۔

میں بار بار یہ سوچتا ہوں کہ یہ وہی میچ ہوتے ہیں جہاں بڑی ٹیمیں اپنی برتری ثابت کرتی ہیں۔ جہاں حریف کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ یہاں مقابلے کی گنجائش کم ہے۔ مگر پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایسی ٹیموں کے خلاف بھی خود کو دباؤ میں لے آتا ہے۔ بیٹنگ میں عدم تسلسل، غیر ضروری شاٹس، اور پھر آخر میں یہ امید کہ کوئی ایک کھلاڑی میچ نکال لے گا۔ یہ حکمت عملی نہیں، یہ عادت بنتی جا رہی ہے۔

ایسوسی ایٹ ٹیموں کے بارے میں ایک بات اب ماننی پڑے گی کہ وہ کمزور نہیں رہیں۔ نیدرلینڈز، نیپال، امریکہ یا آئرلینڈ یہ سب اب منظم یونٹس ہیں۔ ان کے پاس ڈیٹا ہے، پلان ہے، فٹنس ہے، اور سب سے بڑھ کر خوف نہیں۔ نیپال نے انگلینڈ کو آخری اوور تک گھسیٹ کر یہ ثابت کر دیا کہ چھوٹی ٹیموں کے خلاف اگر آپ لمحہ بھر کے لیے بھی غافل ہوئے تو بڑی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

مگر اس سچ کے باوجود، میں یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہوں کہ کیا بڑی ٹیم ہونے کا مطلب ہی ختم ہو چکا ہے؟ کیا پاکستان سے یہ توقع رکھنا غلط ہے کہ وہ چھوٹی ٹیموں کے خلاف میچ کو جلد، واضح اور یکطرفہ بنائے؟ میرا خیال ہے نہیں۔ مسئلہ ایسوسی ایٹ ٹیموں کی بہتری نہیں، مسئلہ پاکستان کی اپنی بے سمتی ہے۔

بولنگ میں ہمارے پاس تجربہ ہے، صلاحیت ہے، مگر ڈیتھ اوورز میں فیصلے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ فیلڈنگ میں چند لمحے ایسے آ جاتے ہیں جو پورے میچ کی کہانی بدل سکتے ہیں۔ اور بیٹنگ… شاید سب سے زیادہ فکر وہیں ہوتی ہے۔ جدید ٹی 20 کرکٹ جہاں آغاز ہی آدھا میچ جتوا دیتا ہے، وہاں ہم ابھی تک خود کو سیٹ کرنے کے مرحلے میں الجھے نظر آتے ہیں۔

مجھے خوف اس بات کا ہے کہ اگر بھارت کے خلاف دو پوائنٹس نہیں ملے، تو پھر یہی معمولی جیتیں بھی ہمارے لیے وبال بن جائیں گی۔ نیٹ رن ریٹ پوائنٹس ٹیبل پر خاموشی سے اپنا فیصلہ سناتا ہے اور پاکستان گزشتہ ورلڈ کپ میں اسکا خمیازہ بھگت چکا ہے لیکن ہمیں اکثر تب ہوش آتا ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

میں یہ تحریر مایوسی میں نہیں لکھ رہا۔ میں جانتا ہوں پاکستانی ٹیم میں ٹیلنٹ ہے، صلاحیت ہے، اور مشکل وقت میں کھیل پلٹنے کی تاریخ بھی ہے۔ مگر ورلڈ کپ جذبات سے نہیں جیتے جاتے، منصوبہ بندی سے جیتے جاتے ہیں۔ چھوٹی ٹیموں کے خلاف میچز موقع ہوتے ہیں، امتحان نہیں۔ اور افسوس یہ ہے کہ ہم ان مواقع کو بار بار امتحان بنا لیتے ہیں۔

ابھی وقت ہے۔ ابھی ورلڈ کپ ہمارے ہاتھ سے نہیں نکلا۔ مگر اگر ہم نے جیت کو قائل کرنے والی کارکردگی میں نہ بدلا، اگر ہم نے چھوٹی ٹیموں کے خلاف بڑے فیصلے نہ لیے، تو یہ ٹورنامنٹ بھی شاید انہی لفظوں میں یاد رکھا جائے گا:
اگر، مگر، کاش۔