بہاول پور: ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فرحان فاروق نے کہا ہے کہ انسدادِ پولیو کی قومی مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر 5 لاکھ 26 ہزار 25 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین کے قطرے پلائے جائیں گے۔انہوں نے کہا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں خصوصی طور پر انسداد پولیو مہم کے دوران خصوصی اقدامات اٹھائے جائیں اور ان علاقوں میں بچوں کی 100 فیصد ویکسینیشن یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کلینک آن ویلز کی تمام گاڑیاں سیلاب زدہ علاقوں میں تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ 4 روزہ انسدادِ پولیو کی قومی مہم کا آغاز یکم ستمبر سے ہوگا جو 4 ستمبر تک جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو مہم کی سو فیصد کامیابی کیلئے ضلع بھر میں 75 یونین کونسل مانیٹرنگ آفیسرز، 402 ایریا انچارج، 1975 موبائل ٹیمیں، 140 فکسڈ ٹیمیں جبکہ 89 ٹرانزٹ پوائنٹس پر ٹیمیں تعینات کی جائیں گی۔ انہوں نے محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران زیرو ڈوز بچوں کی ویکسی نیشن کو ہر ممکن صورت یقینی بنایا جائے۔ وہ اپنے دفتر کے کمیٹی روم میں انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فرحان فاروق نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں گزشتہ پولیو مہم کے تجربات سے استفادہ کرنا ہوگا اور کارکردگی میں بہتری لانی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین کے قطرے پلانا ایک قومی فریضہ ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ والدین انسداد پولیو مہم میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانا دراصل انسانیت کی خدمت کرنا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے انسداد پولیو مہم کے اہداف کے حصول کیلئے محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ محکموں کی جانب سے اُٹھائے جانے والے اقدامات میں بہتری لانے کے لیے ہدایات دیں۔ انہوں نے کہاکہ ٹیموں کو فنگر مارکنگ، ڈور مارکنگ سمیت دیگر امور بارے تفصیلی رہنمائی فراہم کی جائے اور دور دراز علاقوں میں رسائی ممکن بنائی جائے تاکہ انسداد پولیو مہم کے انعقاد کے دوران کسی بھی قسم کی ممکنہ پریشانی سے بچا جا سکے۔ اجلاس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ نے انسداد پولیو مہم کے اہداف کے حصول بارے اجلاس کوتفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنرز بہاول پور سٹی، بہاول پور صدر، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر عامر بشیر، ڈی ایچ او ڈاکٹرخالد چنڑ، ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران اجلاس میں شریک تھے