31 August 2025
اہم خبریں وزیراعظم محمد شہباز شریف چین کے شہر تیانجن پہنچ گئے   |   پنجاب کے تمام متاثرین کا حق انہیں پہنچایا جائےگا ،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف   |   پاکستان کا پورٹ قاسم کے قریب میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس کے لئے چینی سرمایہ کاروں کو ایک ہزار ایکڑ زمین الاٹ کرنے کا منصوبہ   |   وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی ڈاکٹر محمد کامران کی اکیڈیمک لیڈرشپ اور مینجمنٹ پروگرام میں شرکت   |   انتظامیہ وزیراعلی مریم نواز شریف کی قیادت میں سیلاب سے بچاؤ کےلیے پوری طرح متحرک ہے۔ ڈاکٹر رانا محمد طارق   |   دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کا ریلا یکم ستمبر کو جنوبی پنجاب میں داخل ہوگا۔فواد ہاشم ربانی   |   ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال چنڑ نےا پپلی راجن تحصیل احمدپور شرقیہ میں فلڈ ریلیف انتظامات کا جائزہ لیا   |   انسداد ڈینگی کی احتیاطی تدابیر پرعمل کرتے ہوئے پانی کو ایک جگہ نہ ٹھہرنے دیا جائے.ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل   |   بہاولپور میں 4 روزہ انسدادِ پولیو مہم کا آغاز یکم ستمبر سے ہوگا جو 4 ستمبر تک جاری رہے گی،ڈپٹی کمشنر   |   اقوام متحدہ نے سیلاب متاثرین کے لیے مالی امداد جاری کردی   |  

پاک فوج نے بھارت کاجاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا

راولپنڈی- پاک فوج نے ایک اور بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر طیاہ مارا گیا، یہ دو ہفتوں کے دوران تیسرا جبکہ رواں سال کے دوران آٹھواں بھارتی ڈرون ہے جسے پاک فوج نے مار گرایا ہے۔

View image on Twitter

 آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر 500 میٹر تک پاکستانی حدود میں داخل ہوا۔ یہ رواں سال مار گرایا جانے والا 8 واں کواڈ کاپٹر ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاک فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے دو بھارتی کواڈ کاپٹر (ڈرون) کو مار گرایا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایک جاسوس ڈرون ایل او سی کے ساتھ رکھ چکری سیکٹر میں گرایا گیا۔

آئی ایس پی آر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس اشتعال انگیزی کے دوران بھارتی کواڈ کاپٹر جاسوسی کے لیے پاکستانی حدود میں 650 میٹر تک گھس آیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاک فوج نے ایل او سی کے سانکھ سیکٹر میں داخل ہونے والے بھارتی ڈرون کو مار گرایا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال پاک فوج نے بھارت کے 3 ڈرون مار گرائے تھے، اس میں پہلا کواڈ کاپٹر سال کے پہلے دن یعنی یکم جنوری کو باغ سیکٹر میں گرایا گیا تھا۔

بعدازاں ایک روز بعد ہی بھارت نے دوبارہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جسے پاک فوج نے ناکام بناتے ہوئے ستوال سیکٹر میں جاسوس ڈرون مار گرایا تھا۔

علاوہ ازیں فروری میں پلوامہ واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدہ اور فضائی جھڑپ بھی ہوئی تھی جس کے کچھ روز بعد بھارت کا ایک جاسوس ڈرون پاکستانی حدود میں 150 میٹر گھس آیا تھا جسے ایل او سی کے رکھ چکری سیکٹر میں گرادیا گیا تھا۔

قبل ازیں 6 مارچ 2018 کو ایل او سی کے مقام چری کوٹ سیکٹر میں پاک فوج نے بھارت کا جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا تھا۔

اکتوبر 2017 میں بھی پاک فوج نے ایل او سی کے قریب رکھ چکری سیکٹر میں جاسوسی کرنے والے بھارتی ڈرون کو مار گرایا تھا۔

نومبر 2016 میں بھارتی ڈرون کنٹرول لائن پر پاکستانی حدود میں 60 میٹر اندر آگیا تھا، جسے پاک فوج کی آگاہی پوسٹ نے نشانہ بنا کر گرادیا تھا۔

اسی طرح 15 جولائی 2015 کو پاک فوج نے بھارت کے جاسوس ڈرون طیارے کو لائن آف کنٹرول کے قریب بھمبر کے علاقے میں گرایا تھا، طیارہ فضا سے پاکستانی علاقوں کی فوٹو گرافی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

خیال رہے کہ عمران خان نے اگست 2018 میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات استوار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا لیکن بھارت کی جانب سے مثبت جواب نہیں دیا گیا تھا۔

اس دوران پاک-بھارت کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب 27 فروری کو پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر مگ 21 طیارے کو مار گرایا تھا۔

مگ 21 چلانے والے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو بھی حراست میں لیا گیا تھا جسے بعد ازاں پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت رہا کردیا تھا اور انہیں واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا اصل سبب مسلمانوں کو قرار دینے پر نئی دہلی کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

اس ضمن میں پاکستان متعدد مرتبہ عالمی برداری سے باور کراچکا ہے کہ بھارت کا رویہ نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ خطرناک ہے بلکہ وہاں پر موجود تمام اقلیتیں بھی غیر محفوظ ہیں۔