8 April 2026

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن امینڈمنٹ بل 2026 متفقہ طور پر منظور

اسلام آباد (یو پی اے) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمونیکیشن کا اجلاس گزشتہ روز چیئرمین سید امین الحق کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا،اجلاس میں ممبران کمیٹی ڈاکٹرشرمیلا فاروقی، ذوالفقار علی بھٹی،مس آسیہ اسحاق صدیقی، مس پلن بلوچ سمیت ممبران کی اکثریت نے شرکت کی کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن امینڈمنٹ بل 2026 کو کمیٹی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا، اس سے قبل چیئرمین کمیٹی سید امین الحق نے وفاقی سیکرٹری آئی ٹی اور دیگر حکام کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کتنی اہم میٹنگ ہوتی ہے اور آپ لوگ 24 گھنٹے پہلے بھی ممبران کمیٹی کوڈاکومنٹس کی ہارڈ کاپی فراہم نہیں کر سکتے، کمیٹی کے اجلاس کا فیصلہ تو کئی روز قبل ہو چکا تھا لیکن ممبران کمیٹی کو بلز کی ہارڈ کاپی 24 گھنٹے بھی فراہم نہیں کی گئی،

 

 

چیئرمین کمیٹی نے سختی سے ہدایت کی کہ آئندہ کمیٹی کے ہر اجلاس سے کم از کم 24 گھنٹے قبل ممبران کمیٹی کو بلز اور دیگر ڈاکومنٹس کی ہارڈ کاپی فراہم کی جائے تاکہ ممبران بھرپور تیاری کے ساتھ کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہو سکیں،جس پر ڈاکٹرشرمیلہ فاروقی نے چیئرمین کمیٹی کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کاپیاں فراہم نہ کرنا وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی نااہلی کا ثبوت ہے ان کی روش کو تبدیل کرنا ہوگا۔ کمیٹی میں موجود وفاقی سیکرٹری آئی ٹی نے چیئرمین کمیٹی کی ہدایت پر کمیٹی کے آئندہ اجلاس سے قبل ڈاکومنٹس ممبران کو بروقت فراہم کرنے کی مکمل یقین دہانی کروا دی۔ کمیٹی کے اجلاس میں تفصیلی رپورٹ الیکٹرانک ٹرانزیکشن سے متعلق امینڈمنٹ بل گورنمنٹ بل 2026 زیر بحث آیا جس پر ممبر کمیٹی ڈاکٹر شرمیلہ فاروقی نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی حکام سے استفسار کیا کہ کیا بل سے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی کی لجسلیٹو کمیٹی سے مشاورت کی گئی ہے؟جس پر وفاقی سیکرٹری نے کہا کہ پیپلز پارٹی یا کسی اتحادی جماعت سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، جس پر ڈاکٹر شرمیلہ فاروقی نے چیئرمین کمیٹی کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے درخواست کی کہ جب تک بل سے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی کی لیجسلیٹو کمیٹی سے مشاورت نہیں کی جاتی اس وقت تک یہ کمیٹی اس بل کو ڈسکس نہیں کر سکتی۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے دیگر ممبران کی رائے معلوم کی،ممبر کمیٹی ذوالفقار علی بھٹی نے ڈاکٹر شرمیلہ فاروقی کے مطالبے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور حکومتی اداروں کا فرض ہے کہ وہ اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے معاملہ اگلی کمیٹی تک ڈیفر کر دیا۔

کمیٹی کے اجلاس کے ایجنڈے پر موجود ایجنڈا نمبر پانچ جو پرپوزل آف پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پی ایچ ڈی پی منسٹر آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمونیکیشن -2026 27 سے متعلق بریفنگ چیئرمین کمیٹی نے اگلے اجلاس تک موخر کر دی وفاقی سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمونیکیشن نے کمیٹی کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن امینڈمنٹ بل 2026 سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی اے میں بھرتیوں سے متعلق طریقہ کار اور تعلیمی قابلیت کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے، تعلیم کے ساتھ ساتھ تجربے کی اہلیت کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے اور پہلے تین سال بھرتی کرنے والے افسران کو دو سال کی مدت کی توسیع کی سفارش کی گئی ہے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آپ لوگ بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں اور تعلیم و تجربے کو لازمی قرار دینا بھی بہتری کی طرف ایک اہم قدم ہے جس پر چیئرمین سمیت ممبران کمیٹی نے متفقہ طور پر بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔