8 April 2026

اے آئی کے استعمال میں احتیاط اور مسلسل نگرانی ضروری قرار

وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت آفات کی پیشگوئی اور بروقت روک تھام میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔ البتہ اے آئی کے استعمال میں احتیاط اور مسلسل نگرانی ضروری ہے۔

وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے اسلام آباد میں نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس ورکشاپ سے خطاب میں کہا کہ مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی طاقت آفات کی پیش گوئی اور تدارک ہے۔ پاکستان میں ڈیٹا محدود اور حاصل کرنا مشکل ہے۔ اس وقت پاکستان وَلنریبیلٹی رپورٹ میں بیس انتہائی متاثرہ اضلاع کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں سے 18 اضلاع بلوچستان اور دو خیبر پختونخوا میں ہیں۔

مصدق ملک نے کہا کہ ماحولیاتی پالیسی میں سائنس اور اے آئی کا کردار ناگزیر ہو چکا ہے۔ اے آئی ایجنٹس مستقبل میں انسانی ملازمتوں کو متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت پر مکمل انحصار ہمیں کم سمجھدار بنا سکتا ہے۔ اے آئی کے استعمال میں احتیاط اور مسلسل نگرانی ضروری ہے۔