1 April 2026

پاکستان بیت المال شہریوں کو ہنر مند بنانے کیلئے بھی کام کر رہا ہے،سید عمران شاہ

ساہیوال (یو پی اے) وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ پیر سید عمران احمد شاہ نے کہا کہ حکومت مستحق شہریوں کو بروقت اور شفاف امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے سماجی تحفظ اور صحت کے شعبے میں معاونت کو مضبوط کر رہی ہے، جس کے لیے فنڈز میں اضافہ اور ڈیجیٹل اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔

نشتر ہسپتال ملتان کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دورہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایات پر کیا گیا، جس کا مقصد صحت کی سہولیات اور فلاحی اقدامات کا جائزہ لینا تھا تاکہ کمزور اور نادار مریضوں کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نشتر ہسپتال پاکستان کے بڑے صحت کے اداروں میں سے ایک ہے جو نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ سندھ اور بلوچستان سے آنے والے مریضوں کو بھی طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بیت المال (پی بی ایم) مہنگے طبی علاج کے محتاج مریضوں کی معاونت میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان بیت المال کا بجٹ 10 ارب روپے سے بڑھا کر 14 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ طبی امدادی گرانٹس کو بڑھا کر 3 ارب روپے سے زائد کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح فی مریض علاج کی حد 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کر دی گئی ہے تاکہ سنگین امراض میں مبتلا مریضوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ پیر سید عمران احمد شاہ نے بتایا کہ جنوری 2026 تک نشتر ہسپتال میں پاکستان بیت المال کے تحت تقریباً 4,000 مریضوں کا علاج 62 کروڑ روپے کی لاگت سے کیا جا چکا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے دوران اب تک 600 سے زائد مریضوں کو اس پروگرام کے تحت مفت علاج فراہم کیا گیا ہے۔ حکومتی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت ڈیجیٹل والٹ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 60 فیصد سمز پہلے ہی تقسیم کی جا چکی ہیں اور مارچ تک تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کی جائیں گی، جس سے بدعنوانی میں کمی اور عوام کو درپیش مشکلات کم ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال شہریوں کو ہنر مند بنانے کے لیے بھی کام کر رہا ہے تاکہ وہ معاشرے کے مفید اور پیداواری رکن بن سکیں، اور byاس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت غربت کے خاتمے اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔