8 February 2026

پاکستان کواس سال 25 ارب ڈالر کے قرضے واپس کرنا ہیں، گورنر سٹیٹ بینک

گورنر سٹیٹ بینک نے اہم بیان جاری جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کواس سال 25 ارب ڈالر کے قرضے واپس کرنا ہیں، 25ارب ڈالرمیں سے12.5ارب ڈالر کا قرضہ رول اوور ہو رہا ہے، پاکستان کے بیرونی قرضوں کی کمپوزیشن بہت بدل گئی ہے، پاکستان نے7ارب ڈالر کے قرضے واپس بھی کر دیے ہیں، اب پاکستان کے بیرونی قرضے زیادہ ترلانگ ٹرم ہوں گے پہلے شارٹ ٹرم تھے

تفصیلات کے مطابق جمیل احمد کا کہناتھا کہ پاکستان کا بیرونی قرض 4 سال سے نہیں بڑھا،100ارب ڈالر سے نیچے ہی رہے گا،عالمی سطح پر پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بڑھے گی،اسمگلنگ پر کریک ڈاؤن سے ایکسچینج ریٹ مستحکم ہوا، اسٹیٹ بینک نے پچھلے 3 سال میں کھلی مارکیٹ سے 22 ارب ڈالر خریدے ہیں

سٹیٹ بینک نے ملکی زرمبادلہ ذخائر کا ہدف بھی تبدیل کر لیاہے ، گورنر نے کہا کہ دسمبر تک پاکستان کے سرکاری ڈالرذ خائر 20 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائیں گے، اس میں کمرشل بینکوں کے ڈالر ڈپازٹس شام نہیں ہوں گے، اس وقت پاکستان کے سرکاری ڈالر ذخائر16.1ارب ڈالر ہیں،اس سال جون تک پاکستان کے ڈالرذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا

جمیل احمد کا کہناتھا کہ دسمبر2026ءتک پاکستان کےسرکاری ڈالرذخائرتاریخ کی بلندترین سطح پرپہنچ جائیں گے، اگست 2021 ءمیں پاکستان کے سرکاری ڈالر ذخائر 20 ارب ڈالر پر پہنچے تھے، دسمبر تک پاکستان 3 ماہ کی درآمدات کے برابر ڈالر ذخائر رکھنے کا سنگ میل حاصل کر لے گا، نومبر دسمبر میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں زیادہ اضافہ ہوا، سیلاب کے منفی اثرات بھی محدود رہے،زراعت کے شعبے میں بہتری آئے گی

گورنر سٹیٹ بینک کا کہناتھا کہ اسٹیٹ بینک نے معاشی شرح نمو کے اپنے دیئے گئے ہدف سے رجوع کر لیا، اسٹیٹ بینک کے پچھلے تخمینے سے جی ڈی پی گروتھ اب زیادہ ہو گا، اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ جی ڈی پی گروتھ اب زیادہ ہو گی، پہلے اسٹیٹ بینک نےجی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 3.25 فیصد سے4.24فیصد لگایا تھا، اسٹیٹ بینک سمجھتاہےکہ ملکی جی ڈی پی گروتھ رواں مالی سال3.75فیصدسے4.75فیصدرہےگی