جنوبی افریقہ میں دنیا کے قدیم ترین زہریلے تیروں کی شناخت ہو گئی ہے جو 60 ہزار سال پرانے ہیں
عالمی میڈیا کے مطابق یہ دریافت قدیم زمانے میں شکار کی تکنیکوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ جنوبی افریقہ اور سویڈن کے سائنسدانوں کی ٹیم کے مطابق پتھر کے زمانے کے تیروں کی نوکوں پر جنوبی افریقی پودے ’’جفبول‘‘ کے زہر کے آثار ملے ہیں جو دنیا میں دریافت ہونے والا تیروں کا قدیم ترین معلوم زہر ہے
محققین نے کہا کہ یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ 60 ہزار سال قبل جنوبی افریقہ کے باشندوں نے زہریلے مواد اور شکار میں ان کے استعمال کے بارے میں جدید معلومات حاصل کر لی تھیں۔ سائنسدانوں نے یہ دریافت کوازولو ناٹل میں امہلاتوزانا چٹانی پناہ گاہ سے ملنے والے 60 ہزار سال پرانے تیروں کی نوکوں پر کی۔ تحقیقاتی ٹیم نے ’’جفبول‘‘پودے کے زہر کی کیمیائی باقیات کی شناخت کی ہے، یہ ایک زہریلا پودا ہے جسے اس علاقے کے روایتی شکاری اب بھی استعمال کرتے ہیں
سٹاک ہوم یونیورسٹی کے پروفیسر اور قدیم اشیاء میں نامیاتی باقیات کے تجزیے کے ماہر سوین اساکسن نے کہا کہ یہ جنوبی افریقہ اور سویڈن کے محققین کے درمیان طویل مدتی اور قریبی تعاون کا ثمر ہے، دنیا کے قدیم ترین تیر کے زہر کی مل کر شناخت کرنا ایک پیچیدہ کام تھا جو تحقیق کو جاری رکھنے کے لیے بہت حوصلہ افزا ہے۔






