8 February 2026

جنوبی افریقہ میں تاریخ کے قدیم ترین زہریلے تیروں کی دریافت

جنوبی افریقہ میں دنیا کے قدیم ترین زہریلے تیروں کی شناخت ہو گئی ہے جو 60 ہزار سال پرانے ہیں

عالمی میڈیا کے مطابق یہ دریافت قدیم زمانے میں شکار کی تکنیکوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ جنوبی افریقہ اور سویڈن کے سائنسدانوں کی ٹیم کے مطابق پتھر کے زمانے کے تیروں کی نوکوں پر جنوبی افریقی پودے ’’جفبول‘‘ کے زہر کے آثار ملے ہیں جو دنیا میں دریافت ہونے والا تیروں کا قدیم ترین معلوم زہر ہے

محققین نے کہا کہ یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ 60 ہزار سال قبل جنوبی افریقہ کے باشندوں نے زہریلے مواد اور شکار میں ان کے استعمال کے بارے میں جدید معلومات حاصل کر لی تھیں۔ سائنسدانوں نے یہ دریافت کوازولو ناٹل میں امہلاتوزانا چٹانی پناہ گاہ سے ملنے والے 60 ہزار سال پرانے تیروں کی نوکوں پر کی۔ تحقیقاتی ٹیم نے ’’جفبول‘‘پودے کے زہر کی کیمیائی باقیات کی شناخت کی ہے، یہ ایک زہریلا پودا ہے جسے اس علاقے کے روایتی شکاری اب بھی استعمال کرتے ہیں

سٹاک ہوم یونیورسٹی کے پروفیسر اور قدیم اشیاء میں نامیاتی باقیات کے تجزیے کے ماہر سوین اساکسن نے کہا کہ یہ جنوبی افریقہ اور سویڈن کے محققین کے درمیان طویل مدتی اور قریبی تعاون کا ثمر ہے، دنیا کے قدیم ترین تیر کے زہر کی مل کر شناخت کرنا ایک پیچیدہ کام تھا جو تحقیق کو جاری رکھنے کے لیے بہت حوصلہ افزا ہے۔