30 May 2026

پانچ اگست :یوم استحصال

تحریر :تونسوی چراغ

6 برس قبل آج ہی کے دن بھارت دنیا میں بدترین غاصب اوراستعماری ملک بن کر سامنے آیا. بھارت نے پانچ اگست 2019 كو یک طرفہ طور پر اس مقدس علاقے کا خصوصی درجہ ختم کر کے لاکھوں کشمیریوں کے حقوق پر ایک اور ظالمانہ ہاتھ مارا ۔اسکے بعد مقبوضہ کشمیر کو بدترین جیل میں تبدیل کر دیا اور آج بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کا سب سے بڑا قبرستان بنا دیاہے۔مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کا قصہ تقریبا 78 سال کے ہر دن اور ہر گھڑی پر پھیلا ہوا ہے۔جس کا آغاز مہاراجہ ہری سنگھ نے پہلی گولی چلا کر شروع کیا۔اور پھر بھارتی فوج نے اس قدر دردناک دھاوا بولا کہ روح کانپ جائے۔بھارت بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کی امنگوں کے برعکس اس پر قابض ہوا جو تاحال قائم ہے۔کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا ۔اندازے کے مطابق شہید ہونے والے مسلمانوں کی تعداد 2 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے۔ 19 جولائی 1947 کو کشمیریوں کی نمائندہ جماعت مسلم کانفرنس قرارداد کے ذریعے فیصلہ دے چکی تھی کہ کشمیر مسلمانوں کا ہے اور ہمارا الحاق پاکستان سے ہوگا۔چھ سال قبل اس استحصال نے بدترین حد پار کر لی ۔جب پانچ اگست 2019 کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر بدترین انداز میں ڈاکہ ڈالا۔مودی نے ایک صدارتی حکم نامے میں بھارت کے آئین میں آرٹیکل 370اور 35-اےکی دفعات منسوخ کر دی۔ اور لاکھوں ہندوؤں کو کشمیر کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کر دیے ۔جس سے کشمیریوں کی کشمیر پر آئینی حیثیت ہی ختم ہو جائے ۔ماضی قریب میں شائع ہونے والے ڈوئیزرکے مطابق بھارتی فوج کے ہاتھ ماورائے عدالت 96 ہزار کشمیری قتل کیے گئے۔مزید یہ کہ ایک لاکھ 62 ہزار افراد کو غیر قانونی طور پر بھارتی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا۔25 ہزار سے زائد افراد بھارتی فوج کی دردناک کاروائیوں اور پیلٹ گن سے زخمی ہوئے ۔22 ہزار سے زائد عورتیں بیوا اور ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد بچے یتیم ہو گئے۔10 ہزار سے زائد عورتوں کا جنسی استحصال کیا گیا۔یو این ہیومن رائٹس کے تین سالہ ڈیٹا کے مطابق بھارتی فوج نے کم از کم 782 آپریشن کر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ بلکہ ان کی املاک کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔ذرائع مواصلات کے دروازوں کو ایسا تالا لگا دیا کہ جو 2017 کے بعد یا تو مکمل طور پر بند ہیں یا پھر چیک اینڈ بیلنس کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔تاکہ وادی کے باشندے اپنے حقوق کا تحفظ اور آزادی اظہار رائے بھی نہ کر سکیں۔اور گھٹا ٹوپ اندھیرے میں رقم ہونے والی ظلم کی داستانون کی پردہ پوشی کی جا سکے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت سے سیکولر سٹیٹ اور دنیا کی بڑی جمہوریت ہونے کا درجہ واپس لیا جائے۔مسئلہ کشمیر یو این کی قرارداد کے مطابق حل ہونا چاہیے۔
2019 کے بعد ہر سال 5 اگست کو یوم استحصال کے طور پر منایا جاتا ہے۔ تاکہ بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آسکے۔ کشمیر کے مسلمان بھارتی انتہا پسندی کے خلاف سراپہ احتجاج ہیں کشمیری مسلمانوں کو پاکستان کے ساتھ محبت کی سزا اور تکمیل پاکستان کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے 27 اکتوبر 1947 کو اپنی فوجیں مسلم آبادی والی ریاست جموں کشمیر میں داخل کر کے بھارت نے شب خون مارا ہے۔ماضی قریب میں پتہ چلا کہ چھ ہزار نامعلوم کشمیریوں کی شمالی کشمیر میں قبریں ملی ہیں۔جس پر عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے کیونکہ آج عالمی برادری نے اپنا رویہ معیشت سے منسلک کر کے بھارت کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔ ابھرتی بھارتی معیشت اور ایک بڑی آبادی والا ملک جس سے عالمی برادری معاشی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ جس کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کا حل سرد مہری کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ ہندوستانی حکومت تقریبا 78 سال سے کشمیری مجاہدین کو دہشت گرد بول کر وادی نظیر کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ حائل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن کشمیریوں نے جس طرح برہان وانی مرد مجاہد کو اپنی دھرتی پر جان قربان کرنے پر خراج عقیدت پیش کیا اس کا جذبہ اب ہر کشمیری کے دل میں بس چکا ہے۔ بھارتی حکومت اپنے ملک کے مسلمان شہریوں کو جس طرح نشانہ بنا رہی ہے یہ تو خود ریاستی دہشت گردی کی مرتکب ہو رہی ہے۔پانچ اگست تجدید عہد کا دن ہے آئیے آج کے دن ہم عہد کریں ۔جس طرح تقریبا 78سالوں سے اہل کشمیر تکمیل پاکستان کی جنگ لڑتے رہے ہیں ۔اسی طرح ہم بھی کشمیر کی آزادی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
اے خدا میرے جسم سے دل کو جدا نہ کر
کشمیر ہمارا ہے اسے کافروں کو عطا نہ کر