تحریر؛محمدرضااُویسی
سینئرایڈووکیٹ ہائی کورٹ
چیئرمین پاورگروپ آف لائرز
کسی بھی ریاست کے لیے عدلیہ وہ ستون ہے جس پر انصاف، قانون کی بالادستی اور شہری آزادیوں کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ عدلیہ آزاد اور دیانتدار ہو تو معاشرے میں امن، مساوات اور اعتماد قائم رہتا ہے عدلیہ میں کرپشن سرایت کر جائے تو پورا نظام انصاف کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں عدالتی بدعنوانی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ عوام کو حصول انصاف میں رکاوٹیں پیش آتی ہیں، مقدمات برسوں تک لٹکے رہتے ہیں، اکثر سائلین شکوہ کناں ہیں کہ فیصلے پیسے اور تعلقات کی بنیاد پر تبدیل کر دیئے جاتے ہیں۔ اس صورتحال نے عوام کے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے۔
عدالتوں میں رشوت خوری اور بدعنوانی روکنے کے لیے بوگس ایف آئی آر اور ناقص تفتیش کو روکنے کے لیے محض سطحی اقدامات کافی نہیں بلکہ ایک آزاد اور شفاف نظام کی تشکیل لازمی ہے۔ اس تناظر میں چند عملی تجاویز اور تنقیدی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
شکایات کا نظام رشوت کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار ایک مؤثر نظام ہے۔ ایک ایسا آزاد ادارہ تشکیل دیا جائے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں،ججوں اور عدالتی عملے کے خلاف شکایات کو خفیہ طور پر وصول کرے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں شکایت کنندہ محفوظ ہے؟ اکثر گواہوں اور شکایت گزاروں کو دباؤ، دھمکیوں اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے شکایت کنندہ کے تحفظ کو یقینی بنانا پہلی شرط ہے، ورنہ شکایتی نظام محض کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ جائے گا
مالی معاملات کی نگرانی: احتساب یا رسوائی؟
دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں ججوں کے مالی معاملات کی شفافیت لازمی ہے۔ ان کی جائیداد، بینک اکاؤنٹس اور اثاثے باقاعدہ چیک کیے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی اگر ہر سال ججوں کے اثاثوں کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں تو یہ کرپشن کے امکانات کو کم کر سکتا ہے۔ تنقیدی پہلو یہ ہے کہ کیا ہمارے ادارے اتنے طاقتور اور غیر جانبدار ہیں کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے اثاثوں کی چھان بین کر سکیں؟ اکثر احتساب صرف نچلے درجے کے ملازمین تک محدود رہتا ہے جبکہ بڑی کرسیوں پر بیٹھے افراد سوالات سے بالاتر سمجھے جاتے ہیں۔ یہی دوہرا معیار کرپشن کو فروغ دیتا ہے۔ڈیجیٹل ریکارڈز: شفافیت کی طرف قدم عدالتی کارروائیوں کو ڈیجیٹائز کرنا آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ مقدمات کے ریکارڈ، فیصلوں اور شواہد کو آن لائن محفوظ کرنے سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ کسی بھی مقدمے میں فیصلے کے بعد تبدیلی یا جعل سازی مشکل ہوجائے گی۔ لیکن یہاں بھی سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی صلاحیت موجود ہے؟ اکثر عدالتوں میں اب تک پرانے رجسٹر اور ہاتھ سے لکھی فائلوں پر انحصار کیا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل نظام لایا بھی جائے تو کرپٹ عناصر اسے سبوتاژ کرنے کے لیے نئے طریقے نکال لیتے ہیں۔ اس لیے صرف ڈیجیٹل ریکارڈ کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ سائبر سکیورٹی اور سخت نگرانی بھی ضروری ہے۔
سخت سزاؤں کے ذریعے مثال قائم کرنا
رشوت میں ملوث ججوں اور عدالتی عملے کو سخت اور فوری سزا دینا وقت کی ضرورت ہے۔ مثلا ایک جج پکڑا جائے اور اس کو سزا دی جائے تو باقی ججوں کے لیے یہ ایک مثال بن سکتی ہے پرہمارے ہاں اکثر طاقتور بچ نکلتے ہیں جبکہ کمزور اور چھوٹے ملازمین قربانی کا بکرا بن جاتے ہیں۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ احتساب سب کے لیے یکساں ہو۔ ورنہ سخت سزائیں بھی محض نعرہ بازی بن کر رہ جائیں گی۔
بے مقصد مقدمات اور عدالتی رشوت کا تعلق
عدالتوں میں لاکھوں مقدمات سالہا سال تک زیر سماعت رہتے ہیں۔ وکلاء فیس بڑھانے کے لیے مقدمات لٹکاتے ہیں، اور رشوت خوری کے ذریعے فیصلے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ بے بنیاد اور بے مقصد مقدمے دائر کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔ اسی طرح ابتدائی مرحلے پر مصالحت کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ چھوٹے تنازعات عدالتوں کے بوجھ کو نہ بڑھائیں۔ جلد فیصلے دینا بھی عدالتی کرپشن کے خلاف ایک مؤثر قدم ہے، کیونکہ جب مقدمات برسوں چلتے ہیں تو رشوت کے دروازے کھلتے ہیں۔
شفافیت اور احتساب کاکھوکھلا نعرہ یا عملی حقیقت؟
شفافیت اور احتساب کے بغیر کسی بھی ادارے میں اصلاح ممکن نہیں۔ ججوں کے فیصلے عوامی سطح پر قابلِ رسائی ہونے چاہئیں تاکہ لوگ جان سکیں کہ فیصلے میرٹ پر ہوئے یا دباؤ پر۔ لیکن ہمارے ہاں اکثر اہم مقدمات کے فیصلے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں یا ایسے نکات پر سنائے جاتے ہیں جن سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ججوں کے خلاف ایک مضبوط احتسابی نظام قائم کیا جائے اور اس پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے۔
ججوں کا انتخاب اور تقرری: میرٹ یا سفارش؟
عدالتوں کی کرپشن کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اکثر ججوں کی تقرری میرٹ پر نہیں بلکہ سفارش یا تعلقات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اگر شفاف اور میرٹ پر مبنی تقرری کا نظام قائم ہو جائے تو عدلیہ میں اہل اور دیانتدار افراد داخل ہو سکیں گے۔ اس کے لیے ایک خودمختار کمیشن بنایا جائے جو سیاسی دباؤ اور ذاتی تعلقات سے آزاد ہو۔ عوامی نگرانی کسی بھی ادارے کو شفاف بنانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اگر عدالتی کارروائیاں براہ راست نشر کی جائیں یا کم از کم ان کی تفصیلات عوام کے لیے دستیاب ہوں تو اس سے کرپشن کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ عوام کو شکایات درج کرانے کا آسان طریقہ فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے، تاکہ ہر شخص اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر آواز بلند کر سکے۔
کرپشن کی بنیاد کم کرنا
یہ حقیقت ہے کہ کم تنخواہیں اور ناکافی مراعات اکثر سرکاری ملازمین کو رشوت لینے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ اگر ججوں اور عدالتی عملے کی تنخواہیں اور سہولیات بہتر بنا دی جائیں تو وہ غیر قانونی آمدنی کی طرف کم مائل ہوں گے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صرف تنخواہیں بڑھانے سے کرپشن ختم نہیں ہوگی جب تک کہ سخت احتسابی نظام ساتھ نہ ہو۔
راستہ مشکل لیکن ناممکن نہیں۔عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں رشوت خوری کا خاتمہ مشکل تو ہے مگر ناممکن نہیں۔ اس کیلئے سیاسی مداخلت سے آزاد ادارے، مضبوط احتساب، عوامی نگرانی، میرٹ پر مبنی تقرریاں اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے۔ سب سے بڑھ کر عوامی دباؤ اور شعور اس عمل کو کامیاب بنا سکتا ہے۔ ہم واقعی انصاف پر مبنی معاشرہ چاہتے ہیں تو عدلیہ کو ہر طرح کی بدعنوانی سے پاک کرنا ہوگا، ورنہ انصاف کے دروازے صرف طاقتوروں کے لیے کھلے رہیں گے اور عام آدمی ہمیشہ دھکے کھاتا رہیگا
