13 April 2026
اہم خبریں پاکستان کوعالمی سطح پر اسلامی دنیا کی حقیقی آواز بننا ہوگا،مولانا فضل الرحمٰن   |   پاکستان کو امن کے لیے تعمیری کردار جاری رکھنا چاہیے،ترجمان پی ٹی آئی   |   وزیر خارجہ کے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے رابطے، جنگ بندی کے عزم کو برقرار رکھنا ضرور قرار   |   کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعے کیخلاف دھرنا وزیر داخلہ کی یقین دہانی پر ختم   |   ایران،امریکا بات چیت کا پہلا راؤنڈ مکمل، فریقین کا مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ   |   آسٹریلیا کی تاریخ میں پہلی بارخاتون جنرل کو فوج کی سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ   |   ایران اور امریکا کے درمیان کچھ دنوں کے اندر مذاکرات کا دوسرا دور ہوسکتا ہے،وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ   |   جنگ بندی کا مطالبہ کرنے پر امریکی صدر نے مسیحیوں کے پیشوا کو جرائم پسند قرار دے دیا   |   اسلام آباد مذاکرات ایک ایونٹ نہیں ایک مسلسل عمل کا نام ہے، ایرانی سفیر   |   عوامی مقامات پر ایس او پیز کی مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ڈی سی رحیم یار خان   |  

ایم وی این اوز کیلئے نئے لائسنسنگ فریم ورک پر باضابطہ مشاورت شروع

پی ٹی اے نے چھوٹے موبائل فون آپریٹرز ایم وی این او لائسنسنگ فریم ورک کا مسودہ جاری کردیا۔ اسٹیک ہولڈرز سے آراء طلب کرلیں۔ نئی پالیسی کے تحت 15 سالہ لائسنس اور فیس کا تعین کیا جائے گا۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے اسٹیک ہولڈرز کو تجاویز پیش کرنے کیلئے 14 دن کی مہلت دی گئی ہے جبکہ آخری تاریخ 22 اپریل مقرر کی گئی ہے۔

فائیو جی سپیکٹرم کی متوقع نیلامی کے بعد پی ٹی اے نے ایم وی این او لائسنس جلد جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے مشاورتی عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مجوزہ فریم ورک کے تحت ایم وی این او لائسنس کیلئے ایک لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے جبکہ لائسنس کی مدت 15 سال ہوگی اور تجدید کیلئے 30 ماہ قبل درخواست دینا لازمی ہوگا۔

مالی شرائط کے مطابق سالانہ لائسنس فیس اعشاریہ پانچ فیصد، یونیورسل سروس فنڈ ایک اعشاریہ پانچ فیصد اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اعشاریہ پانچ فیصد مقرر کیا گیا ہے

فریم ورک کے تحت ایم وی این اوز کو اپنے برانڈ کے تحت سروسز فراہم کرنے، پیکجز بنانے اور کسٹمر کیئر و بلنگ سسٹمز قائم کرنے کی اجازت ہوگی تاہم انہیں اپنا نیٹ ورک یا اسپیکٹرم رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی

پی ٹی اے کے مطابق ایم وی این اوز کو ملک بھر میں سروسز فراہم کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔