10 June 2026

جسٹس سردار اعجاز اسحاق کا عدلیہ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر تحفظات کا اظہار

اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کا فل کورٹ میٹنگ سے متعلق خط منظر عام پر آ گیا۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے نام لکھے گئے اس خط کی کاپی تمام ججز کو بھی ارسال کی گئی ہے،

جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے اپنے خط میں عدلیہ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کیا۔ لکھا کہ دنیا بھر میں عدالتی نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بحث جاری ہے۔مصنوعی ذہانت مخالفین کے نزدیک پروگرام ایبل نظام ہے اس لیے روبوٹ جج ہمیشہ پروگرامرز کے تابع رہیں گے۔ ان کے فیصلے ان ہی کوڈز کے مطابق ہوں گے جو ان میں فیڈ کیے جائیں گے

جسٹس اعجاز اسحاق خان نے لکھا کہ کمپیوٹر یا روبوٹ آزادانہ رائے یا حق کے موافق فیصلے دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں وہ اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے تھے لیکن تین ستمبر کی فل کورٹ میٹنگ کے بعد ان کا نقطہ نظر ناقدین کے مطابق ہو گیا ہے

جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے خط میں جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کی فل کورٹ سے متعلق آرا سے اتفاق کا بھی اظہار کیا گیا