اسلام آباد(رانا عدنان)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری کے زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیرزادہ سیکرٹری ہاؤسنگ،ڈی جی ہاؤسنگ ڈی جی پی ایچ اے وزارت لاء اور متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی جبکہ کمیٹی ممبران انجم عقیل خان، ابرار احمد، حاجی رسول بخش چانڈیو اور ایم این اے سید رفیع اللہ و دیگر ممبران نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔اجلاس کے ابتدا ء میں چیئرمین کمیٹی اور وفاقی وزیر ہاؤسنگ میاں ریاض حسین پیرزادہ کے درمیان سخت جملوں کا بھی تبادلہ ہوا، وفاقی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ میٹنگز پر طبیعت کی خرابی اور شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکا اس میٹنگ پر بھی طبیعت کی خرابی کے باعث نہ آنے کی معذرت کی تھی لیکن چیئرمین کمیٹی نے مجھے شوکاز نوٹس ایسے دیا ہے جیسے کہ میں ان کاشاگرد ہوں،چیئرمین کمیٹی مولانا عبدالغفور حیدری نے کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل جس میں بیمہ کاذکر کیا گیا ہے بیمہ پالیسی اور سود دونوں اسلام کے منافی ہیں جب آئین پاکستان میں یہ چیز درج ہے کہ کوئی بھی قانون قرآن اور سنت کے منافی نہیں ہوگا تو پھر یہ بل قرآن اور سنت کے منافی کیوں بنایا جا رہا ہے؟ اگر اس میں سے بیمہ پالیسی کو حذف کر دیتے ہیں تو پھر ہم آج ہی بل پاس کر دیتے ہیں جس پر خاتون ممبر میں تجویز دی کہ ایسے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا اسے اگلے اجلاس تک موخر کر دیا جائے۔
چیئرمین کمیٹی یہ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ بلوچستان کی جو صورتحال ہے اس کو دیکھ کر ہم کو کچلاک کو بھی بھول جائیں گے۔کچلاک منصوبے کو 18 سے 20 سال ہو چکے ہیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوا۔ چیئرمین کمیٹی نے بریفنگ کے دوران بتائے گئے منصوبے میں فلیٹس کے مالکان اور ان کو انشورنس اور بیمہ کی مد میں ملنے والے رقم کے بارے میں ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سود حرام ہے اور ہم حکومت سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ یکم جنوری 2028 تک سود کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور حکومت نے بھی اس سے مکمل اتفاق کیا ہوا ہے لیکن پھر بھی حکومت سودی نظام کو فروغ دے رہی ہے اور یہ بیمہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے بیمہ اور انشورنس حرام ہے، اس پر چیئر مین کمیٹی نے ایک ممتاز دینی مدارس کا فتوی کمیٹی کو پڑھ کر سنایا جس پر ایم این اے آغارفیع اللہ نے ازراہ تفنن کہا کہ ہماری تو مکروہ پر ہی ٹانگیں کانپتی ہیں اور آپ نے تو سیدھا ہی حرام قرار دے دیا ہے، اجلاس میں وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ شفافیت پیدا کرنے کیلئے ہاؤسنگ کے کام کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے،نا میں پراپرٹی ڈیلرہوں نا ہی ایسے لوگوں کو سپورٹ کرتا ہوں، آئندہ کوئی بھی منصوبہ اس وقت تک نہیں بنائیں گے جب تک پرانے منصوبے مکمل نہیں کر لیے جاتے۔ماضی کے تمام منصوبے بغیر پلاننگ کے چل رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے حلقہ سے دو ایم این ایز ملک ابرار اور انجم عقیل خان ہی بی یو جے کے چیئرمین ہوں گے اور انہی کی نگرانی میں متاثرین اسلام آباد کو ادائیگیاں کی جائیں گی اور یہی ایم این ایز پالیسی بنائیں گے اور یہی ان تمام متاثرین کے ذمہ دار بھی ہوں گے۔میں ایک عوامی نمائندہ ہوں اور یہ کام اسلام آباد کے عوامی نمائندوں کے ذریعے ہی کیے جائیں گے۔ متاثرین اسلام آباد کی ایک ایک پائی ان کی دہلیز پر پہنچائی جائے گی،15 سے 20 سال سے منصوبے التوا کا شکار ہیں۔وفاقی وزیر میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کمیٹی کو بتایا کہ کراچی میں ہاؤسنگ اینڈورکس کی زمین پر قبضے کے حوالے سے چیئرمین نیب سے بات ہوئی ہے اور نیب کے ذریعے سرکاری زمین قبضہ گروپوں سے واگزار کرائی جائے گی۔ صوبوں میں جو زمین ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی ہے وہ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی منظوری کے بعد صوبوں کے حوالے کر دی جائے گی تاکہ سرکاری زمین کو قبضہ گروپوں سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سے بات ہوئی ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت وزارت ہاؤسنگ ورکس کی زمین واگزار کرانے میں بھرپور تعاون کرے گی،سیکرٹری ہاؤسنگ کیپٹن محمود نے بتایا کہ اسلام اباد کے جی سکس سرکاری کوارٹرز میں ایک ہزار سے زیادہ غیر قانونی افغان شہری آباد ہیں جو اپنے آپ کو پکے رہائشی کہتے ہیں لیکن کراچی میں صورتحال اس سے بھی زیادہ گھمبیرہے۔
کراچی میں ان لوگوں کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے جنہوں نے اربوں کھربوں کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے چیئرمین کمیٹی کو یاد دہانی کرائی کے کچلاک کا منصوبہ آپ کے دور میں بنا تھا جو ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔ریاض حسین پیرزادہ نے کمیٹی کو بتایا کہ جاپان میں 37 فیصد بجٹ صرف پلاننگ پر خرچ کیا جاتا ہے اور باقی منصوبے پر خرچ ہوتا ہے لیکن یہاں منصوبے تو بنا لیے جاتے ہیں لیکن منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔ اگر باقاعدہ پلاننگ کے تحت منصوبے بنائے جاتے تو آج متاثرین در بدر نہ پھرتے اور منصوبہ بندی کے تحت شروع ہونے والے منصوبے اپنی مدت سے قبل ہی مکمل ہو جاتے۔ انہوں نے بتایا کہ ایف 14 اور ایف 15 کے متاثرین کو پیسے اسلام آباد کے ایم این ایز کے ہاتھوں سے دلوائے جائیں گے اور وہی پھر اس کے جوابدہ ہوں گے۔ممبر کمیٹی ملک ابرار نے کہا کہ ہم اسلام آباد کے منتخب نمائندے ہیں اور جتنے بھی متاثرین اسلام آباد ہیں ہمارے حلقے کے شہری ہیں۔ہمیں انہیں جواب دینا پڑتا ہے۔ہاؤسنگ ایسے منصوبے بنائے جو بروقت مکمل بھی ہوں اور متاثرین کو فوری ادائیگی بھی کی جائیں۔انہوں نے وزارت ہاؤسنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ وفاقی وزیر اور سیکرٹری ہاؤسنگ بہترین انداز میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہG-14 ایف 14 کے متاثرین ابھی تک سفر کر رہے ہیں۔سیکرٹری ہاؤسنگ کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود نے وزارت ہاؤسنگ کے منصوبوں سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ کراچی سمیت دیگر صوبوں میں سرکار کی زمین پر غیر قانونی لوگ قابض ہیں جو ایک گھمبیر صورتحال ہے۔ اس حوالے سے وزارت ہاؤسنگ کام کر رہی ہے اور وفاقی وزیر کی ہدایات کی روشنی میں بہتری کی طرف کام کر رہے ہیں۔ کمیٹی کو ڈی جی پاکستان ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کیپٹن ریٹائرڈ ظفر اقبال نے تفصیلی بریفنگ دی، کمیٹی کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی مولانا عبدالغفور حیدری نے دعا کروائی۔






