17 January 2026
اہم خبریں بہاولپوربارکے انتخابات ، شیخ خورشید اورمنیب الرحمان کی کامیابی یقینی ہو گئی   |   پاکستان سپر لیگ میں دو نئی ٹیموں کا اضافہ، حیدرآباد اور سیالکوٹ کی شمولیت   |   سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز لاہور کے زیر اہتمام لیکچر کا انعقاد   |   سربراہ پاک فضائیہ کی سعودی عرب کی اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات   |   پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گہرے مذہبی اور تاریخی تعلقات قائم ہیں. ایئر چیف   |   ڈپٹی کمشنر بہاولپور سید حسن رضا کا شہر کے مختلف تعلیمی اور فنی تعلیمی اداروں کا تفصیلی دورہ   |   وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر بہاولپورنے ڈرنگ اسٹیڈیم کا دورہ کیا   |   پاکستان اور چین کا دہشت گردی کیخلاف تعاون مزید مضبوط اور سی پیک بلارکاوٹ آگے بڑھانے پر اتفاق   |   ملتان ایئرپورٹ پر بھول جانے والا بیگ بحفاظت واپس ملنے پر غیر ملکی خاتون کا اظہار تشکر   |   کراچی: بینک آف پنجاب کی مبینہ سائبر حملے کی خبروں کی تردید، وضاحتی بیان جاری   |  

چینی سائنس دانوں کی سپر فاسٹ میگلیو ٹرین، 700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی ریکارڈ رفتار حاصل

چینی سائنس دانوں نے حال ہی میں ایک تجربے کے دوران دنیا کو حیران کر دیا، جب ان کی تیار کردہ سپر کنڈکٹنگ میگلیو ٹرین نے صرف دو سیکنڈ میں 700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا

میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ تجربہ چین کی نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی کے سائنس دانوں نے 25 دسمبر کو کیا۔ تقریباً ایک ٹن وزن والی ٹرین کو 400 میٹر لمبی مخصوص ٹریک پر چلایا گیا، جہاں یہ صرف چند لمحوں میں ریکارڈ رفتار تک پہنچ گئی اور پھر محفوظ طریقے سے روک دی گئی۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ اب تک کی تیز ترین سپر کنڈکٹنگ الیکٹرک میگلیو ٹرین ہے، جس پر انجینئرز کی ٹیم گزشتہ 10 سال سے کام کر رہی تھی۔ اس سے قبل جنوری میں اسی ٹریک پر یہ ٹرین 648 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچی تھی، مگر اب اس نے 700 کلومیٹر فی گھنٹہ عبور کر کے عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے

میگلیو ٹرین کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ٹریک کو نہیں چھوتی، بلکہ مضبوط مقناطیس کی مدد سے ہوا میں اٹھ کر حرکت کرتی ہے، جس کی وجہ سے ٹریک اور پہیوں کے درمیان فریکشن نہیں ہوتا اور ٹرین انتہائی تیز رفتاری سے سفر کر سکتی ہے۔ ایک منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرین ٹریک پر بجلی کی طرح دوڑتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور اس کے پیچھے ہلکی دھند چھا رہی ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو مستقبل میں راکٹ لانچ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی مسافر ٹرینوں میں اپنائی گئی، تو بڑے شہروں کے درمیان سفر صرف چند منٹوں میں ممکن ہو سکتا ہے۔