17 January 2026
اہم خبریں بہاولپوربارکے انتخابات ، شیخ خورشید اورمنیب الرحمان کی کامیابی یقینی ہو گئی   |   پاکستان سپر لیگ میں دو نئی ٹیموں کا اضافہ، حیدرآباد اور سیالکوٹ کی شمولیت   |   سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز لاہور کے زیر اہتمام لیکچر کا انعقاد   |   سربراہ پاک فضائیہ کی سعودی عرب کی اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات   |   پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گہرے مذہبی اور تاریخی تعلقات قائم ہیں. ایئر چیف   |   ڈپٹی کمشنر بہاولپور سید حسن رضا کا شہر کے مختلف تعلیمی اور فنی تعلیمی اداروں کا تفصیلی دورہ   |   وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر بہاولپورنے ڈرنگ اسٹیڈیم کا دورہ کیا   |   پاکستان اور چین کا دہشت گردی کیخلاف تعاون مزید مضبوط اور سی پیک بلارکاوٹ آگے بڑھانے پر اتفاق   |   ملتان ایئرپورٹ پر بھول جانے والا بیگ بحفاظت واپس ملنے پر غیر ملکی خاتون کا اظہار تشکر   |   کراچی: بینک آف پنجاب کی مبینہ سائبر حملے کی خبروں کی تردید، وضاحتی بیان جاری   |  

کراچی: بینک آف پنجاب کی مبینہ سائبر حملے کی خبروں کی تردید، وضاحتی بیان جاری

بینک آف پنجاب پر سائبر حملے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر بینک نے وضاحت جاری کرتے ہوئے انہیں غلط اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ بینک کے مطابق معمول کی مانیٹرنگ کے دوران کریڈٹ کارڈ کی کچھ بے قاعدہ ٹرانزیکشنز کی نشاندہی ہوئی، جس کے فوراً بعد داخلی جائزہ شروع کیا گیا

وضاحت کے مطابق معمول کی مانیٹرنگ کے دوران، بینک نے کریڈٹ کارڈ کی کچھ بے قاعدہ ٹرانزیکشنز (لین دین) کی نشاندہی کی اور فوری طور پر داخلی جائزہ شروع کیا ، جائزے سے یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ ٹرانزیکشنز کریڈٹ کارڈ سسٹم میں ایک عارضی تکنیکی خرابی (Technical Glitch) کی وجہ سے ہوئیں، جس نے بینک کے موجودہ صارفین کی ایک مخصوص تعداد کو غیر مجاز (un-authorized) ٹرانزیکشنز کرنے کے قابل بنا دیا۔

​ جیسا کہ میڈیا کے کچھ حصوں میں رپورٹ کیا گیا ہے، کسی خاص سرکاری اسکیم یا پروگرام، بشمول “آسان کاروبار کارڈ” تک محدود نہیں تھے، بلکہ اس مسئلے نے عمومی طور پر بینک کے کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کے ایک مخصوص گروپ کو متاثر کیا۔​بینک یہ وضاحت کرنا چاہتا ہے کہ یہ تکنیکی مسئلہ کسی سائبر حملے (Cyber-attack) کا نتیجہ نہیں تھا، اور سسٹم میں نشاندہی کی گئی خامی کو اب مکمل طور پر درست کر دیا گیا ہے۔

جمعہ 2 جنوری 2026 کو ہونے والی سسٹم اپ ڈیٹ کا اس مخصوص کریڈٹ کارڈ مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔​بینک کے معیاری طریقہ کار کے مطابق وصولی (Recovery) کے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں، اور جہاں زیادہ تر صارفین نے خود رابطہ کر کے حد سے زیادہ استعمال شدہ رقوم (over-limit amounts) کی ادائیگی شروع کر دی ہے، وہیں تمام ضروری اصلاحی اقدامات پر بھی عمل کیا جا رہا ہے۔

​اس معاملے میں شامل رقم کے حجم کے حوالے سے گردش کرنے والے دعوے انتہائی قیاس آرائیوں پر مبنی، مبالغہ آمیز اور غلط ہیں۔ صورتحال بینک کے لیے مکمل طور پر قابو میں ہے