17 January 2026
اہم خبریں بہاولپوربارکے انتخابات ، شیخ خورشید اورمنیب الرحمان کی کامیابی یقینی ہو گئی   |   پاکستان سپر لیگ میں دو نئی ٹیموں کا اضافہ، حیدرآباد اور سیالکوٹ کی شمولیت   |   سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز لاہور کے زیر اہتمام لیکچر کا انعقاد   |   سربراہ پاک فضائیہ کی سعودی عرب کی اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات   |   پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گہرے مذہبی اور تاریخی تعلقات قائم ہیں. ایئر چیف   |   ڈپٹی کمشنر بہاولپور سید حسن رضا کا شہر کے مختلف تعلیمی اور فنی تعلیمی اداروں کا تفصیلی دورہ   |   وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر بہاولپورنے ڈرنگ اسٹیڈیم کا دورہ کیا   |   پاکستان اور چین کا دہشت گردی کیخلاف تعاون مزید مضبوط اور سی پیک بلارکاوٹ آگے بڑھانے پر اتفاق   |   ملتان ایئرپورٹ پر بھول جانے والا بیگ بحفاظت واپس ملنے پر غیر ملکی خاتون کا اظہار تشکر   |   کراچی: بینک آف پنجاب کی مبینہ سائبر حملے کی خبروں کی تردید، وضاحتی بیان جاری   |  

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے مالی خطرات جانچنے کا نیا مانیٹرنگ فریم ورک متعارف

اسلا م آباد،حکومت نے آئی ایم ایف سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کر دیا۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے مالی خطرات جانچنے کا نیا مانیٹرنگ فریم ورک متعارف کردیاگیا

دستاویز کے مطابق پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت چلنے والے منصوبوں کے ہنگامی واجبات کا حجم 472 ارب روپے سے تجاوز کرگیا۔ صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ مالی خطرہ، واجبات کی مجموعی رقم 335 ارب روپے سے زیادہ ہے

اب وفاق اور تمام صوبے ہر 6 ماہ بعد پی پی پی منصوبوں کی رپورٹ دیں گے، پی پی پی منصوبوں میں 368 ارب روپے کے ہنگامی نوعیت کے واجبات شامل ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں اضافے کی مد میں 150 ارب سے زائد واجبات شامل ہیں۔

مجموعی واجبات میں مالی گارنٹیز کا حصہ 104 ارب روپے ہے، ملک بھر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 36 منصوبوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا، وفاقی حکومت کے پی پی پی منصوبوں سے 90.6 ارب روپے کا مالی دباؤ ہے

سندھ میں سب سے زیادہ مالی خطرہ، مجموعی رقم 335.6 ارب روپے ہے، پنجاب کے پی پی پی منصوبوں سے 26.5 ارب روپے کی ذمہ داریاں شامل ہے، یہ اعداد و شمار دسمبر 2025 تک کے عارضی تخمینوں پر مبنی ہیں

وزارت خزانہ کے مطابق پی پی پی معاہدوں کے مالی خطرات بجٹ میں فورا ظاہر نہیں ہوتے، اب منصوبوں کے مالی خطرات اور قرضہ جات رپورٹس میں شامل ہوں گے، پی پی پی منصوبوں میں کم از کم آمدن کی گارنٹی اور شرح سود شامل ہے، ڈالر ریٹ اور لاگت میں اضافہ بھی بڑے خطرات میں شامل ہیں، حکومت نے مالی جھٹکوں سے بچنے کے لیے نیا نظام متعارف کرایا ہے